سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1526
Sunan Ibn Majah 1526
کتاب #7: کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
31: بَابٌ في الصَّلاَةِ عَلَى أَهْلِ الْقِبْلَةِ
باب: اہل قبلہ کی نماز جنازہ ادا کرنا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ " أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُرِحَ فَآذَتْهُ الْجِرَاحَةُ، فَدَبَّ إِلَى مَشَاقِصَهِ، فَذَبَحَ بِهَا نَفْسَهُ، فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ: وَكَانَ ذَلِكَ أَدَبًا مِنْهُ.
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص زخمی ہوا ، اور زخم نے اسے کافی تکلیف پہنچائی ، تو وہ آہستہ آہستہ تیر کی انی کے پاس گیا ، اور اس سے اپنے کو ذبح کر لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی تاکہ اس سے دوسروں کو نصیحت ہو ۱؎ “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1526]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ امام اور کوئی مقتدیٰ اور پیشوا نہ پڑھے، لیکن دوسرے عام لوگ پڑھ لیں، واضح رہے کہ ایک قرض دار تھا اور اس کا انتقال ہو گیا، تو اس کی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ نہیں پڑھائی تھی، لیکن لوگوں کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الجنائز 51 (3185)، سنن الترمذی/الجنائز 68 (1068)، (تحفة الأشراف: 2174)، وقد أخر جہ: صحیح مسلم/الجنائز 36 (978)، سنن النسائی/الجنائز 68 (1963)، مسند احمد (5/87، 92، 94، 96، 97) (صحیح)