سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1524
Sunan Ibn Majah 1524
کتاب #7: کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
31: بَابٌ في الصَّلاَةِ عَلَى أَهْلِ الْقِبْلَةِ
باب: اہل قبلہ کی نماز جنازہ ادا کرنا۔
حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: مَاتَ رَأْسُ الْمُنَافِقِينَ بِالْمَدِينَةِ، وَأَوْصَى أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْ يُكَفِّنَهُ فِي قَمِيصِهِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ وَكَفَّنَهُ فِي قَمِيصِهِ، وَقَامَ عَلَى قَبْرِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ سورة التوبة آية 84.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ منافقین کا سردار ( عبداللہ بن ابی ) مدینہ میں مر گیا ، اس نے وصیت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھیں ، اور اس کو اپنی قمیص میں کفنائیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی ، اور اسے اپنے کرتے میں کفنایا ، اور اس کی قبر پہ کھڑے ہوئے ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی : «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» ” منافقوں میں سے جو کوئی مر جائے تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھیں ، اور اس کی قبر پہ مت کھڑے ہوں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1524]
قال الشيخ الألباني:
منكر بذكر الوصية
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ مجالد: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 433
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2355) (منکر) (ملاحظہ ہو: احکام الجنائز: 160، اس حدیث میں وصیت کا ذکر منکر ہے)