سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1455
Sunan Ibn Majah 1455
کتاب #7: کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
6: بَابُ : مَا جَاءَ فِي تَغْمِيضِ الْمَيِّتِ
باب: (روح قبض ہو جانے کے بعد) میت کی آنکھیں بند کر دینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا حَضَرْتُمْ مَوْتَاكُمْ فَأَغْمِضُوا الْبَصَرَ، فَإِنَّ الْبَصَرَ يَتْبَعُ الرُّوحَ، وَقُولُوا خَيْرًا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ عَلَى مَا قَالَ أَهْلُ الْبَيْتِ".
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم اپنے مردوں کے پاس جاؤ تو ان کی آنکھیں بند کر دو ، اس لیے کہ آنکھ روح کا پیچھا کرتی ہے ، اور ( میت کے پاس ) اچھی بات کہو ، کیونکہ فرشتے گھر والوں کی بات پر آمین کہتے ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1455]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ قزعة بن سويد: ضعيف (تقريب: 5546) وقال الھيثمي: و ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 6/ 245) ¤ والحديث السابق (الأصل: 1454) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 429
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4828، ومصباح الزجاجة: 516)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/125) (حسن) (سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1092)