سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1454
Sunan Ibn Majah 1454
کتاب #7: کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
6: بَابُ : مَا جَاءَ فِي تَغْمِيضِ الْمَيِّتِ
باب: (روح قبض ہو جانے کے بعد) میت کی آنکھیں بند کر دینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ، وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ، فَأَغْمَضَهُ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، ان کی آنکھ کھلی ہوئی تھی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بند کر دیا ، پھر فرمایا : ” جب روح قبض کی جاتی ہے ، تو آنکھ اس کا پیچھا کرتی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1454]
💡 وضاحت:
۱؎: مردے کی آنکھ اس واسطے کھلی رہ جاتی ہے کہ روح کو جاتے وقت وہ دیکھتا ہے، پھر آنکھ بند کرنے کی طاقت نہیں رہتی اس لئے آنکھ کھلی رہ جاتی ہے، «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الجنائز 4 (920)، سنن ابی داود/الجنائز 21 (3118)، (تحفة الأشراف: 18205)، مسند احمد (6/297) (صحیح)