📖 سنن أبي داود • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن أبي داود

Sunan Abi Dawud (سُنَنُ أَبِي دَاوُدَ)
📁 ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل (أبواب تفريع استفتاح الصلاة) 🏷️ باب: باب: آدمی نماز میں لاٹھی پر ٹیک لگا سکتا ہے۔
عربی:
اردو:
سنن أبي داود حدیث نمبر: 948 Sunan Abi Dawud 948
کتاب #--: ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
179: باب الرَّجُلِ يَعْتَمِدُ فِي الصَّلاَةِ عَلَى عَصًا
باب: آدمی نماز میں لاٹھی پر ٹیک لگا سکتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَابِصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، قَالَ: قَدِمْتُ الرَّقَّةَ، فَقَالَ لِي بَعْضُ أَصْحَابِي: هَلْ لَكَ فِي رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: قُلْتُ: غَنِيمَةٌ، فَدَفَعْنَا إِلَى وَابِصَةَ، قُلْتُ لِصَاحِبِي: نَبْدَأُ، فَنَنْظُرُ إِلَى دَلِّهِ، فَإِذَا عَلَيْهِ قَلَنْسُوَةٌ لَاطِئَةٌ ذَاتُ أُذُنَيْنِ، وَبُرْنُسُ خَزٍّ أَغْبَرُ، وَإِذَا هُوَ مُعْتَمِدٌ عَلَى عَصًا فِي صَلَاتِهِ، فَقُلْنَا: بَعْدَ أَنْ سَلَّمْنَا؟: فَقَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ قَيْسٍ بِنْتُ مِحْصَنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَمَّا أَسَنَّ وَحَمَلَ اللَّحْمَ اتَّخَذَ عَمُودًا فِي مُصَلَّاهُ يَعْتَمِدُ عَلَيْهِ".
ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ میں رقہ ۱؎ آیا تو میرے ایک دوست نے مجھ سے پوچھا: کیا تمہیں کسی صحابی سے ملنے کی خواہش ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ (ملاقات ہو جائے تو) غنیمت ہے، تو ہم وابصہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، میں نے اپنے ساتھی سے کہا: پہلے ہم ان کی وضع دیکھیں، میں نے دیکھا کہ وہ ایک ٹوپی سر سے چپکی ہوئی دو کانوں والی پہنے ہوئے تھے اور خز ریشم کا خاکی رنگ کا برنس ۲؎ اوڑھے ہوئے تھے، اور کیا دیکھتے ہیں کہ وہ نماز میں ایک لکڑی پر ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر ہم نے سلام کرنے کے بعد ان سے (نماز میں لکڑی پر ٹیک لگانے کی وجہ) پوچھی تو انہوں نے کہا: مجھ سے ام قیس بنت محصن نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر جب زیادہ ہو گئی اور بدن پر گوشت چڑھ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز پڑھنے کی جگہ میں ایک ستون بنا لیا جس پر آپ ٹیک لگاتے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 948]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک شہر کا نام ہے جو شام میں دریائے فرات پر واقع ہے۔ ۲؎: ایک قسم کا لباس جس میں ٹوپی اسی سے بنی ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ أخرجه البيھقي (2/288 وسنده حسن) وصححه الحاكم (1/264، 265 وسنده حسن) ووافقه الذهبي
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18345) (صحیح)
سنن أبي داود • حدیث #948
946 947 948 949 950
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ