سنن أبي داود حدیث نمبر: 947
Sunan Abi Dawud 947
کتاب #--: ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
178: باب الرَّجُلِ يُصَلِّي مُخْتَصِرًا
باب: کمر پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنے کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الِاخْتِصَارِ فِي الصَّلَاةِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: يَعْنِي يَضَعُ يَدَهُ عَلَى خَاصِرَتِهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں «الاختصار» سے منع فرمایا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «الاختصار» کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنا ہاتھ اپنی کمر پر رکھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 947]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ یہ یہودیوں کا فعل ہے اور بعض روایتوں میں ہے کہ ابلیس کو زمین پر اسی ہیئت میں اتارا گیا تھا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (1220) صحيح مسلم (545)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14546)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العمل في الصلاة 17 (1220)، صحیح مسلم/المساجد 11 (545)، سنن الترمذی/الصلاة 169 (383)، سنن النسائی/الافتتاح 12 (889)، مسند احمد (2/232،290، 295، 331، 399)، سنن الدارمی/الصلاة 138 (1468) (صحیح)