سنن أبي داود حدیث نمبر: 675
Sunan Abi Dawud 675
کتاب #--: ابواب: صف بندی کے احکام ومسائل
98: باب مَنْ يُسْتَحَبُّ أَنْ يَلِيَ الإِمَامَ فِي الصَّفِّ وَكَرَاهِيَةِ التَّأَخُّرِ
باب: کن لوگوں کا صف میں امام کے قریب رہنا مستحب اور پیچھے رہنا مکروہ ہے؟
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، وَزَادَ: وَلَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ وَإِيَّاكُمْ وَهَيْشَاتِ الْأَسْوَاقِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں اس میں اتنا اضافہ ہے: ”تم لوگ صف میں آگے پیچھے نہ رہو، ورنہ تمہارے دلوں میں بھی اختلاف ہو جائے گا، اور تم (مسجدوں میں) بازاروں جیسے شور و غل سے بچو“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 675]
💡 وضاحت:
مسلمانوں کو ہمیشہ باوقار رہتے ہوئے اپنی آواز کو پست رکھنا چاہیے اور مساجد میں ہوں تو اس کا اور زیادہ اہتمام ہونا چاہیے، مسجد میں مقیم اور مسجد میں آنے والے عابدین کا حق ہے کہ وہ ان باتوں کا خیال رکھیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (432)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصلاة 28 (432)، سنن الترمذی/الصلاة 54 (228)، (تحفة الأشراف: 9415)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/457)، سنن الدارمی/الصلاة 51 (1303) (صحیح)