سنن أبي داود حدیث نمبر: 673
Sunan Abi Dawud 673
کتاب #--: ابواب: صف بندی کے احکام ومسائل
97: باب الصُّفُوفِ بَيْنَ السَّوَارِي
باب: ستونوں کے درمیان صف بندی کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ مَحْمُودٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَدُفِعْنَا إِلَى السَّوَارِي فَتَقَدَّمْنَا وَتَأَخَّرْنَا، فَقَالَ أَنَسٌ: " كُنَّا نَتَّقِي هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبدالحمید بن محمود کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کے دن نماز پڑھی تو (ازدحام کی وجہ سے) ہمیں ستونوں کی طرف دھکیل دیا گیا۔ چنانچہ ہم (ستونوں سے) آگے پیچھے ہو گئے (یعنی ستونوں کے درمیان کھڑے نہیں ہوئے) اس پر انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہم اس سے بچا کرتے تھے (یعنی ستونوں کے درمیان صفیں نہیں بناتے تھے)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 673]
💡 وضاحت:
چونکہ ستونوں کی وجہ سے صف کٹ جاتی ہے اس لیے جائز نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ الثوري صرح بالسماع عند البيھقي (3/104) والحاكم (1/210، 218)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الصلاة 55 (229)، سنن النسائی/الإمامة 33 (822)، (تحفة الأشراف: 980)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/131) (صحیح)