سنن أبي داود حدیث نمبر: 644
Sunan Abi Dawud 644
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
88: باب مَا جَاءَ فِي السَّدْلِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں سدل کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: " أَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ عَطَاءً يُصَلِّي سَادِلًا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا يُضَعِّفُ ذَلِكَ الْحَدِيثَ.
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء کو نماز میں اکثر سدل کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عطاء کا یہ فعل (سدل کرنا) سابق حدیث کی تضعیف کر رہا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 644]
💡 وضاحت:
۱؎: راوی کا اپنی روایت کردہ حدیث کے مخالف عمل اس حدیث کے ترک کرنے کے لئے قابل اعتبار نہیں، اصل اعتبار روایت کا ہے (اگر صحیح ہو) راوی کے عمل کا نہیں: «الحجة فيما روى، لا فيما رأى» نیز عطاء کا فتوی حدیث کے مطابق ثابت ہے جیسا کہ گزرا، اس لئے عطاء کے فعل سے حدیث کی تضعیف درست نہیں ہے، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ سدل کرتے وقت بھول گئے ہوں یا کوئی دوسرا عذر لاحق ہو گیا ہو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح مقطوع
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد به أبو داود (صحیح)