سنن أبي داود حدیث نمبر: 643
Sunan Abi Dawud 643
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
88: باب مَا جَاءَ فِي السَّدْلِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں سدل کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ، وَأَنْ يُغَطِّيَ الرَّجُلُ فَاهُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ عِسْلٌ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سدل ۱؎ کرنے اور آدمی کو منہ ڈھانپنے سے منع فرمایا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عسل نے عطاء سے، عطاء نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سدل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 643]
💡 وضاحت:
۱؎: «سدل» کی شارحین حدیث نے یہ وضاحت کی ہے کہ چادر کو اس کے درمیان سے اپنے سر یا کندھوں پر ڈال لیا جائے اور اس کی دائیں بائیں اطراف لٹکتی رہیں۔ یا صاحب النہایہ کے بیان کے مطابق کپڑے کو اس انداز سے اپنے اوپر لپیٹ لیا جائے کہ ہاتھ بھی اندر ہی بند ہو جائیں اور پھر رکوع اور سجدے میں بھی ان کو نہ نکالا جائے، تو یہ صورتیں نماز کے منافی ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ ترمذي (378) ابن ماجه (966) ¤ الحسن بن ذكوان عنعن ¤ ولحديثه شواهد ضعيفة منھا طريق عسل بن سفيان وھو ضعيف (تقريب: 4578) و قال الھيثمي في عسل بن سفيان: و ضعفه جمھور الأئمة (مجمع الزوائد 267/2) ¤ وانظر الحديث الآتي (2112) ¤ وروي ابن أبي شيبة (2/ 259 ح 6483) بسند صحيح عن ابن عمر أنه كره السدل في الصلٰوة مخالفة لليھود وقال: ”إنھم يسدلون“ وروي أيضًا (ح 6480) عن سعيد بن وھب: ”أن عليًا رأي قومًا يصلون وقد سدلوا فقال: كأنھم اليھود خرجوا من فھرھم“ وسنده صحيح ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 36
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14178)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 161 (378)، مسند احمد (2/295، 345)، سنن الدارمی/الصلاة 104 (1419) (حسن)