سنن أبي داود حدیث نمبر: 542
Sunan Abi Dawud 542
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
46: باب فِي الصَّلاَةِ تُقَامُ وَلَمْ يَأْتِ الإِمَامُ يَنْتَظِرُونَهُ قُعُودًا
باب: اقامت کے بعد امام مسجد نہ پہنچے تو لوگ بیٹھ کر امام کا انتظار کریں۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ عَنِ الرَّجُلِ يَتَكَلَّمُ بَعْدَ مَا تُقَامُ الصَّلَاةُ، فَحَدَّثَنِي، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَعَرَضَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَحَبَسَهُ بَعْدَ مَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ".
حمید کہتے ہیں میں نے ثابت بنانی سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو نماز کی تکبیر ہو جانے کے بعد بات کرتا ہو، تو انہوں نے مجھ سے انس رضی اللہ عنہ کے واسطے سے حدیث بیان کی کہ نماز کی تکبیر کہہ دی گئی تھی کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا اور اس نے آپ کو تکبیر ہو جانے کے بعد (باتوں کے ذریعے) روکے رکھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 542]
💡 وضاحت:
اقامت اور تکبیر تحریمہ میں فاصلہ ہو جائے تو کوئی حرج نہیں اور مناسب بات کر لینا بھی جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (643)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 27 (642)، 28 (643)، والاستئذان 48 (6292)، (تحفة الأشراف: 395)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض 33 (376)، سنن النسائی/الإمامة 13 (792)، مسند احمد (3/101، 114، 182) (صحیح)