سنن أبي داود حدیث نمبر: 539
Sunan Abi Dawud 539
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَكَذَا رَوَاهُ أَيُّوبُ، وَحَجَّاجٌ الصَّوَّافُ، عَنْ يَحْيَى، وَهِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى، وَرَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى، وَقَالَا فِيهِ: حَتَّى تَرَوْنِي وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے تکبیر کہی جائے تو جب تک تم مجھے (آتا) نہ دیکھ لو کھڑے نہ ہوا کرو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے ایوب اور حجاج الصواف نے یحییٰ سے روایت کیا ہے۔ اور ہشام دستوائی کا بیان ہے کہ مجھے یحییٰ نے یہ حدیث لکھ کر بھیجی، نیز اسے معاویہ بن سلام اور علی بن مبارک نے بھی یحییٰ سے روایت کیا ہے، ان دونوں کی روایت میں ہے: ”یہاں تک کہ تم مجھے دیکھ لو، اور سکون اور وقار کو ہاتھ سے نہ جانے دو“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 539]
💡 وضاحت:
معلوم ہوا کہ بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے قبل بھی اقامت کہہ دی جاتی تھی، جب کہ آپ کو پہلے جماعت کا وقت ہونے کی اطلاع دی جاتی تھی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (637) صحيح مسلم (604)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 22 (637)، 23 (638)، والجمعة 18 (909)، صحیح مسلم/المساجد 29 (604)، سنن الترمذی/الصلاة 298 (592)، سنن النسائی/الأذان 42 (688)، والإمامة 12 (791)، (تحفة الأشراف: 12106)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/304، 307، 308)، سنن الدارمی/الصلاة 47 (1296) (صحیح)