سنن أبي داود حدیث نمبر: 534
Sunan Abi Dawud 534
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
41: باب فِي الأَذَانِ قَبْلَ دُخُولِ الْوَقْتِ
باب: وقت سے پہلے اذان دیدے تو کیا کرے؟
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ شَدَّادٍ مَوْلَى عِيَاضِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ بِلَالٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: " لَا تُؤَذِّنْ حَتَّى يَسْتَبِينَ لَكَ الْفَجْرُ هَكَذَا: وَمَدَّ يَدَيْهِ عَرْضًا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: شَدَّادٌ مَوْلَى عِيَاضٍ لَمْ يُدْرِكْ بِلَالًا.
بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اذان نہ دیا کرو جب تک کہ فجر تمہارے لیے اس طرح واضح نہ ہو جائے“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ چوڑائی میں پھیلائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عیاض کے آزاد کردہ غلام شداد نے بلال رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 534]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ سنده مرسل،شداد مولي عياض لم يدرك بلا لاً كما قال أبو داود ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 33
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2034) (حسن) (اس کے راوی شدّاد مجہول ہیں، حافظ ابن حجر نے انہیں مقبول یرسل کہا ہے، لیکن اس کی تقویت ابو ذر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، ملاحظہ ہو مسند احمد: 5/171- 172، وصحیح ابی داود: 3/45)