سنن أبي داود حدیث نمبر: 533
Sunan Abi Dawud 533
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
41: باب فِي الأَذَانِ قَبْلَ دُخُولِ الْوَقْتِ
باب: وقت سے پہلے اذان دیدے تو کیا کرے؟
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنْ مُؤَذِّنٍ لِعُمَرَ يُقَالُ لَهُ: مَسْرُوحٌ، أَذَّنَ قَبْلَ الصُّبْحِ فَأَمَرَهُ عُمَرُ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَقَدْ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ أَوْ غَيْرِهِ، أَنَّ مُؤَذِّنًا لِعُمَرَ يُقَالُ لَهُ: مَسْرُوحٌ أَوْ غَيْرُهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد، وَرَوَاهُ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ لِعُمَرَ مُؤَذِّنٌ يُقَالُ لَهُ: مَسْعُودٌ، وَذَكَرَ نَحْوَهُ. وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ ذَاكَ
عمر رضی اللہ عنہ کے مسروح نامی مؤذن سے روایت ہے کہ انہوں نے صبح صادق سے پہلے اذان دے دی تو عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا، پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن زید نے عبیداللہ بن عمر سے، عبیداللہ نے نافع سے یا کسی اور سے روایت کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کا ایک مؤذن تھا (جس کا نام مسروح یا کچھ اور تھا)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے دراوردی نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے نافع سے، نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کا مسعود نامی ایک مؤذن تھا، اور دراوردی نے اسی طرح کی روایت ذکر کی اور یہ پہلی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 533]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ مسروح مجھول الحال،وثقه ابن حبان وحده ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 32
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 7587) (صحیح)