سنن أبي داود حدیث نمبر: 5037
Sunan Abi Dawud 5037
کتاب #43: کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
100: باب كَمْ مَرَّةٍ يُشَمَّتُ الْعَاطِسُ
باب: چھینکنے والے کا جواب کتنی بار دیا جائے؟
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، " أَنَّ رَجُلًا عَطَسَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، ثُمَّ عَطَسَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الرَّجُلُ مَزْكُومٌ".
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھینک آئی تو آپ نے اس سے فرمایا: «يرحمك الله» ”اللہ تم پر رحم فرمائے“ اسے پھر چھینک آئی تو آپ نے فرمایا: ”آدمی کو زکام ہوا ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5037]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (2993)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الزہد 9 (2993)، سنن الترمذی/الأدب 5 (2743)، سنن ابن ماجہ/الأدب 20 (3714)، (تحفة الأشراف: 4513)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الاستئذان 32 (2703) (صحیح)