سنن أبي داود حدیث نمبر: 4954
Sunan Abi Dawud 4954
کتاب #43: کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
70: باب فِي تَغْيِيرِ الاِسْمِ الْقَبِيحِ
باب: برے نام کو بدل دینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ عَمِّهِ أُسَامَةَ بْنِ أَخْدَرِيٍّ: " أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: أَصْرَ مُكَانَ فِي النَّفَرِ الَّذِينَ أَتَوْ الرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا اسْمُكَ , قال: أَنَا أَصْرَمُ , قَالَ: بَلْ أَنْتَ زُرْعَةُ".
اسامہ بن اخدری تمیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جسے ”اصرم“ (بہت زیادہ کاٹنے والا) کہا جاتا تھا، اس گروہ میں تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا تو آپ نے اس سے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے کہا: میں ”اصرم“ ہوں، آپ نے فرمایا: ”نہیں تم ”اصرم“ نہیں بلکہ ”زرعہ“ (کھیتی لگانے والے) ہو، (یعنی آج سے تمہارا نام زرعہ ہے)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4954]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (4775)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 83) (صحیح)