سنن أبي داود حدیث نمبر: 4952
Sunan Abi Dawud 4952
کتاب #43: کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
70: باب فِي تَغْيِيرِ الاِسْمِ الْقَبِيحِ
باب: برے نام کو بدل دینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ , وَمُسَدَّدٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيَّرَ اسْمَ عَاصِيَةَ، وَقَالَ: أَنْتِ جَمِيلَةٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصیہ کا نام بدل دیا ۱؎، اور فرمایا: تو جمیلہ ہے ۲؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4952]
💡 وضاحت:
۱؎: عاصیہ عمر کی بیٹی تھی جس کے معنی گنہگار و نافرمان کے ہیں۔
۲؎:یعنی آج سے تیرا نام جمیلہ (خوبصورت اچھے اخلاق و کردار والی) ہے۔
۲؎:یعنی آج سے تیرا نام جمیلہ (خوبصورت اچھے اخلاق و کردار والی) ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (2139)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الآداب 3 (2139)، سنن الترمذی/الأدب 66 (2838)، (تحفة الأشراف: 8155، 7876)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الأدب 32 (3733)، مسند احمد (2/18)، سنن الدارمی/الاستئذان 62 (2739) (صحیح)