سنن أبي داود حدیث نمبر: 4912
Sunan Abi Dawud 4912
کتاب #43: کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
55: باب فِيمَنْ يَهْجُرُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ
باب: مسلمان بھائی سے ترک تعلق کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ , وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ السَّرْخَسِيُّ، أَنَّ أَبَا عَامِرٍ أَخْبَرَهُمْ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَحِلُّ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَهْجُرَ مُؤْمِنًا فَوْقَ ثَلَاثٍ فَإِنْ مَرَّتْ بِهِ ثَلَاثٌ فَلْيَلْقَهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ فَإِنْ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ فَقَدِ اشْتَرَكَا فِي الْأَجْرِ وَإِنْ لَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ فَقَدْ بَاءَ بِالْإِثْمِ" زَادَ أَحْمَدُ وَخَرَجَ الْمُسَلِّمُ مِنَ الْهِجْرَةِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مومن کے لیے درست نہیں کہ وہ کسی مومن کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے، اگر اس پر تین دن گزر جائیں تو وہ اس سے ملے اور اس کو سلام کرے، اب اگر وہ سلام کا جواب دیتا ہے، تو وہ دونوں اجر میں شریک ہیں اور اگر وہ جواب نہیں دیتا تو وہ گنہگار ہوا، اور سلام کرنے والا قطع تعلق کے گناہ سے نکل گیا“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4912]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ھلال مستور ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 171
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14803)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/البر والصلة 8 (2561)، مسند احمد (2/392، 456) (ضعیف)