سنن أبي داود حدیث نمبر: 4911
Sunan Abi Dawud 4911
کتاب #43: کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
55: باب فِيمَنْ يَهْجُرُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ
باب: مسلمان بھائی سے ترک تعلق کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ يَلْتَقِيَانِ فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ".
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان کے لیے درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے کہ وہ دونوں ملیں تو یہ منہ پھیر لے، اور وہ منہ پھیر لے، اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4911]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ اس کا پہل کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں تواضع اور خاکساری زیادہ ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (6077) صحيح مسلم (2560)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأدب 62 (6077)، الاستئذان 9 (6237)، صحیح مسلم/البر والصلة 8 (2560)، سنن الترمذی/البر والصلة 21 (1932)، (تحفة الأشراف: 3479)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/حسن الخلق 4 (13)، مسند احمد (4165، 421، 422) (صحیح)