سنن أبي داود حدیث نمبر: 4902
Sunan Abi Dawud 4902
کتاب #43: کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
51: باب فِي النَّهْىِ عَنِ الْبَغْىِ
باب: ظلم و زیادتی اور بغاوت منع ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ ذَنْبٍ أَجْدَرُ أَنْ يُعَجِّلَ اللَّهُ تَعَالَى لِصَاحِبِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا مَعَ مَا يَدَّخِرُ لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِثْلُ الْبَغْيِ وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ظلم و بغاوت اور قطع رحمی (رشتہ ناتا توڑنے) جیسا کوئی اور گناہ نہیں ہے، جو اس لائق ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کے مرتکب کو اسی دنیا میں سزا دے باوجود اس کے کہ اس کی سزا اس نے آخرت میں رکھ چھوڑی ہو ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4902]
💡 وضاحت:
۱؎: «بغی» سے مراد باغی کا ظلم یا سلطان کے خلاف بغاوت یا کبر و غرور ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (4932) ¤ أخرجه الترمذي (2511 وسنده صحيح) وابن ماجه (4211 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/صفة القیامة 57 (1511)، سنن ابن ماجہ/الزہد 23 (4211)، (تحفة الأشراف: 11693)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/38) (صحیح)