سنن أبي داود حدیث نمبر: 4900
Sunan Abi Dawud 4900
کتاب #43: کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
50: باب فِي النَّهْىِ عَنْ سَبِّ الْمَوْتَى
باب: مردوں کو برا بھلا کہنا منع ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَنَسٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اذْكُرُوا مَحَاسِنَ مَوْتَاكُمْ وَكُفُّوا عَنْ مَسَاوِيهِمْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے مردوں کی خوبیاں بیان کرو اور ان کی برائیاں بیان کرنے سے باز رہو ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4900]
💡 وضاحت:
۱؎: مرے ہوئے کافروں اور فاسقوں کی برائیوں کا ذکر اگر اس لیے کیا جائے تاکہ لوگ اس سے بچیں اور عبرت حاصل کریں تو جائز ہے، اسی طرح سے ضعیف اور مجروح رواۃ حدیث پر جرح و تنفید بھی باتفاق علماء جائز ہے، خواہ وہ مردہ ہو یا زندہ، اس لیے کہ اس کا مقصد عقیدہ، علم، اور حدیث کی خدمت و حفاظت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1019) ¤ وقال البخاري:”عمران بن أنس المكي: منكر الحديث“(سنن الترمذي: 1019) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 171
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الجنائز 34 (1019)، (تحفة الأشراف: 7328) (ضعیف) (عمران بن انس ضعیف راوی ہیں)