سنن أبي داود حدیث نمبر: 4834
Sunan Abi Dawud 4834
کتاب #43: کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
19: باب مَنْ يُؤْمَرُ أَنْ يُجَالَسَ
باب: کن لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چاہئے؟
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ، قَالَ: " الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روحیں (عالم ارواح میں) الگ الگ جھنڈوں میں ہوتی ہیں یعنی (بدن کے پیدا ہونے سے پہلے روحوں کے جھنڈ الگ الگ ہوتے ہیں) تو ان میں سے جن میں آپس میں (عالم ارواح میں) جان پہچان تھی وہ دنیا میں بھی ایک دوسرے سے مانوس ہوتی ہیں اور جن میں اجنبیت تھی وہ دنیا میں بھی الگ الگ رہتی ہیں“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4834]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (2638)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/البر والصلة 49 (3638)، (تحفة الأشراف: 14820)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/295، 527، 539) (صحیح)