سنن أبي داود حدیث نمبر: 4832
Sunan Abi Dawud 4832
کتاب #43: کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
19: باب مَنْ يُؤْمَرُ أَنْ يُجَالَسَ
باب: کن لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چاہئے؟
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ غَيْلَانَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَوْ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تُصَاحِبْ إِلَّا مُؤْمِنًا وَلَا يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلَّا تَقِيٌّ".
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کے سوا کسی کو ساتھی نہ بناؤ ۱؎، اور تمہارا کھانا سوائے پرہیزگار کے کوئی اور نہ کھائے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4832]
💡 وضاحت:
۱؎: اس میں کفار و منافقین کی مصاحبت سے ممانعت ہے کیونکہ ان کی مصاحبت دین کے لئے ضرر رساں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (5018) ¤ أخرجه الترمذي (2395 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الزہد 55 (2395)، (تحفة الأشراف: 4399)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/38) (حسن)