سنن أبي داود حدیث نمبر: 4802
Sunan Abi Dawud 4802
کتاب #43: کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
9: باب فِي كَرَاهِيَةِ الرِّفْعَةِ فِي الأُمُورِ
باب: معاملہ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا یا ڈینگیں مارنا برا ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " كَانَتِ الْعَضْبَاءُ لَا تُسْبَقُ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ لَهُ، فَسَابَقَهَا فَسَبَقَهَا الْأَعْرَابِيُّ، فَكَأَنَّ ذَلِكَ شَقَّ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يَرْفَعَ شَيْئًا مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا وَضَعَهُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی) عضباء مقابلے میں کبھی پیچھے نہیں رہی تھی (ایک بار) ایک اعرابی اپنے ایک نوعمر اونٹ پر سوار ہو کر آیا، اور اس نے اس سے مقابلہ کیا تو اعرابی اس سے آگے نکل گیا تو ایسا لگا کہ یہ چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پر گراں گزری ہے تو آپ نے فرمایا: ”اللہ کا یہ دستور ہے کہ جو چیز بھی اوپر اٹھے اسے نیچا کر دے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4802]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 319)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجھاد 59 (2872 تعلیقًا)، سنن النسائی/الخیل 15 (3622)، مسند احمد (3/253) (صحیح)