سنن أبي داود حدیث نمبر: 4801
Sunan Abi Dawud 4801
کتاب #43: کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
8: باب فِي حُسْنِ الْخُلُقِ
باب: خوش اخلاقی کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَعُثْمَانُ ابْنا أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ الْجَوَّاظُ، وَلَا الْجَعْظَرِيُّ" , قال: وَالْجَوَّاظُ: الْغَلِيظُ الْفَظُّ.
حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «جواظ» جنت میں نہ داخل ہو گا اور نہ «جعظری» جنت میں داخل ہو گا ۱؎۔ راوی کہتے ہیں «جواظ» کے معنی بدخلق اور سخت دل کے ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4801]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ دونوں لفظ کثیرالمعانی ہیں، حافظ ابن الاثیرجواظ کی شرح میں فرماتے ہیں: مال جوڑنے والا اور خرچ نہ کرنے والا، یا لحیم شحیم اپنی چال میں اترنے والا، یا چھوٹا بڑے پیٹ والا، مصباح اللغات میں «جواظ» کے معنی میں فرمایا: تکبرسے چلنے والا، اجڈ بہت کھانے والا، ابن الاثیر «جعظری» کے بارے میں فرماتے ہیں: بھدا موٹا اور متکبر، یا ایسا شخص جو ڈینگیں مارے، اور اس کے پاس کچھ نہ ہو، اور چھوٹا ناٹا ہو، مولانا وحیدالزمان حیدرآبادی نے ان لفظوں کے ترجمہ میں فرمایا: فریبی یا مال جوڑنے والا، اور دمڑی خرچ نہ کر نے والا، یا موٹا غلیظ، یا بیہودہ چلانے والا بدخلق سرکش (یہ سب «جواظ» کے معنی تھے) اور مغرور سخت گویا موٹا بھدا بہت کھانے والا (یہ جب ہے کہ حرام کے مال سے موٹا ہوا ہو) (ابوداود ۳/۵۸۱)
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ مشكوة المصابيح (5080) ¤ وللحديث شواھد عند البخاري (4918، 6071، 6657) ومسلم (2853) وغيرھما
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3288)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/306) (صحیح)