سنن أبي داود حدیث نمبر: 4760
Sunan Abi Dawud 4760
کتاب #42: کتاب: سنتوں کا بیان
31: باب فِي قِتَالِ الْخَوَارِجِ
باب: خوارج سے قتال کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، الْمَعْنَى، قَالَا: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ، وَهِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أَئِمَّةٌ، تَعْرِفُونَ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُونَ، فَمَنْ أَنْكَرَ , قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ هِشَامٌ بِلِسَانِهِ فَقَدْ بَرِئَ، وَمَنْ كَرِهَ بِقَلْبِهِ، فَقَدْ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نَقْتُلُهُمْ؟ , قَالَ ابْنُ دَاوُدَ: أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ؟ , قَالَ: لَا، مَا صَلَّوْا".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب تم پر ایسے حاکم ہوں گے جن سے تم معروف (نیک اعمال) ہوتے بھی دیکھو گے اور منکر (خلاف شرع امور) بھی دیکھو گے، تو جس نے منکر کا انکار کیا، (ابوداؤد کہتے ہیں: ہشام کی روایت میں «بلسانہ» کا لفظ بھی ہے (جس نے منکر کا) اپنی زبان سے انکار کیا) تو وہ بری ہو گیا اور جس نے دل سے برا جانا وہ بھی بچ گیا، البتہ جس نے اس کام کو پسند کیا اور اس کی پیروی کی تو وہ بچ نہ سکے گا“ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا ہم انہیں قتل نہ کر دیں؟ (سلیمان ابن داود طیالسی) کی روایت میں ہے: کیا ہم ان سے قتال نہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں جب تک کہ وہ نماز پڑھتے رہیں ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4760]
💡 وضاحت:
۱؎: منکر اور خلاف شرع کام کا انکار کرنا زبان سے نفاق سے براءت دلاتا ہے، اور جو شخص دل سے برا جانتا اور اس میں شریک نہیں ہوتا وہ گناہ سے بچ جاتا ہے، لیکن جو پسند کرے اور اس میں شریک ہو تو وہ انہی جیسا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (1854)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الإمارة 16 (1854)، سنن الترمذی/الفتن 78 (2265)، (تحفة الأشراف: 18166)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/295، 302، 305، 321) (صحیح)