سنن أبي داود حدیث نمبر: 4758
Sunan Abi Dawud 4758
کتاب #42: کتاب: سنتوں کا بیان
31: باب فِي قِتَالِ الْخَوَارِجِ
باب: خوارج سے قتال کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، أخبرنا زُهَيْرٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، وَمَنْدَلٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي جَهْمٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ وَهْبَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا، فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جماعت ۲؎ سے ایک بالشت بھی علیحدگی اختیار کی تو اس نے اسلام کا قلادہ اپنی گردن سے اتار پھینکا“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4758]
💡 وضاحت:
۱؎: خوارج جمع ہے خارجی کی، یہ ایک گمراہ فرقہ ہے، یہ لوگ علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے پھر ان کے لشکر سے نکل کر فاسد عقیدے اختیار کئے اور آپ کے خلاف قتال کیا، ان کا عقیدہ ہے: کبیرہ گناہ کا مرتکب کافر ہے، یہ لوگ علی،عثمان، معاویہ اور عائشہ رضی اللہ عنہم وغیرہم کی تکفیر کرتے ہیں، علی اور معاویہ نے ان لوگوں سے قتال کیا اور ان کے فتنہ کا سد باب کیا۔
۲؎: امام جماعت سے یا مسلمانوں کے اجتماعی معاملہ سے علیحدگی اختیار کی وہ گمراہی و ہلاکت کا شکار ہوا۔
۲؎: امام جماعت سے یا مسلمانوں کے اجتماعی معاملہ سے علیحدگی اختیار کی وہ گمراہی و ہلاکت کا شکار ہوا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (185) ¤ خالد بن وھبان حسن الحديث ورواه ابن أبي عاصم في السنة (1053 وسنده صحيح) ولفظه: ’’من فارق الجماعة والإسلام فقد خلع ربقة الإسلام من عنقه‘‘
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ، أبوداود، (تحفة الأشراف: 11908)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/180) (صحیح)