سنن أبي داود حدیث نمبر: 4672
Sunan Abi Dawud 4672
کتاب #42: کتاب: سنتوں کا بیان
14: باب فِي التَّخْيِيرِ بَيْنَ الأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ
باب: انبیاء و رسل علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، يَذْكُرُ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ، فَقَالَ 0 رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا: اے مخلوق میں سے سب سے بہتر! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شان تو ابراہیم علیہ السلام کی ہے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4672]
💡 وضاحت:
۱؎: ممکن ہے خیرالبریۃ ابراہیم علیہ السلام کا لقب ہو، وہ اپنے زمانہ کے سب سے بہتر تھے، آپ نے ازراہ انکسار ایسا فرمایا ورنہ آپ یقینا خیرالبریۃ ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (2369)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الفضائل 41 (2369)، سنن الترمذی/تفسیر البینة 86 (3352)، (تحفة الأشراف: 1574)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/178، 184) (صحیح)