سنن أبي داود حدیث نمبر: 4668
Sunan Abi Dawud 4668
کتاب #42: کتاب: سنتوں کا بیان
14: باب فِي التَّخْيِيرِ بَيْنَ الأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ
باب: انبیاء و رسل علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبیوں کو ایک دوسرے پر فضیلت نہ دو ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4668]
💡 وضاحت:
۱؎: اس کے یہ معنی نہیں کہ انبیاء فضیلت میں برابر ہیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اپنی طرف سے ایسا مت کرو، یا مطلب یہ ہے کہ ایک کو دوسرے پر ایسی فضیلت نہ دو کہ دوسرے کی تنقیص لازم آئے، یا یہ ہے کہ نفس نبوت میں سب برابر ہیں، خصائص اور فضائل میں ایک دوسرے پر فوقیت رکھتے ہیں،جیسا کہ اللہ نے فرمایا: «تلك الرسل فضلنا بعضهم على بعض» ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (2412) صحيح مسلم (2374)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الخصومات 4 (2412)، الأنبیاء 25 (3398)، الدیات 32 (6917)، صحیح مسلم/الفضائل (2374)، (تحفة الأشراف: 4405)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/31، 33، 40) (صحیح)