سنن أبي داود حدیث نمبر: 4641
Sunan Abi Dawud 4641
کتاب #42: کتاب: سنتوں کا بیان
9: باب فِي الْخُلَفَاءِ
باب: خلفاء کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو ظَفَرٍ عَبْدُ السَّلَامِ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ عَوْفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ يَخْطُبُ، وَهُوَ يَقُولُ: " إِنَّ مَثَلَ عُثْمَانَ عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ يَقْرَؤُهَا وَيُفَسِّرُهَا: إِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا سورة آل عمران آية 55، يُشِيرُ إِلَيْنَا بِيَدِهِ وَإِلَى أَهْلِ الشَّامِ".
عوف الا عرابی کہتے ہیں کہ میں نے حجاج کو خطبہ میں یہ کہتے سنا: عثمان کی مثال اللہ کے نزدیک عیسیٰ بن مریم کی طرح ہے، پھر انہوں نے آیت کریمہ «إذ قال الله يا عيسى إني متوفيك ورافعك إلى ومطهرك من الذين كفروا» ”جب اللہ نے کہا کہ: اے عیسیٰ! میں تجھے پورا لینے والا ہوں، اور تجھے اپنی جانب اٹھانے والا ہوں، اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں“ (سورۃ آل عمران: ۵۵) پڑھی اور اپنے ہاتھ سے ہماری اور اہل شام کی طرف اشارہ کر رہے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4641]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ تفسیر بالرائے کی بدترین قسم ہے حجاج نے اس آیت کریمہ کو اپنے اور اپنے مخالفوں پر منطبق کر ڈالا جب کہ حقیقت سے اس کا کوئی واسطہ نہیں، آج بھی بعض اہل بدعت آیات قرآنیہ کی من مانی تفسیر کرتے رہتے ہیں، اور اہل حق کو اہل باطل اور باطل پرستوں کو اہل حق باور کراتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف مقطوع
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ عبد السلام ھو ابن مطھر وجعفر ھو ابن سليمان الضبعي
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19183) (ضعیف) (عوف بن ابی جمیلة اعرابی اور حجاج کے درمیان انقطاع ہے)