سنن أبي داود حدیث نمبر: 4635
Sunan Abi Dawud 4635
کتاب #42: کتاب: سنتوں کا بیان
9: باب فِي الْخُلَفَاءِ
باب: خلفاء کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيه، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ: أَيُّكُمْ رَأَى رُؤْيَا؟، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَلَمْ يَذْكُرِ الْكَرَاهِيَةَ، قَالَ: فَاسْتَاءَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فَسَاءَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: خِلَافَةُ نُبُوَّةٍ ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا: ”تم میں سے کس نے خواب دیکھا ہے؟“ پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی اور چہرے پر ناگواری دیکھنے کا ذکر نہیں کیا بلکہ یوں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ (خواب) برا لگا، اور فرمایا: ”وہ نبوت کی خلافت ہے، پھر اس کے بعد اللہ جسے چاہے گا سلطنت عطا کرے گا“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4635]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ علي بن زيد بن جدعان ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 163
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11687) (صحیح) (یہ روایت پچھلی روایت سے تقویت پاکر صحیح ہے، ورنہ اس کے اندر علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں)