سنن أبي داود حدیث نمبر: 452
Sunan Abi Dawud 452
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
12: باب فِي بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ
باب: مساجد کی تعمیر کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، " أَنّ مَسْجِدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ سَوَارِيهِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جُذُوعِ النَّخْلِ، أَعْلَاهُ مُظَلَّلٌ بِجَرِيدِ النَّخْلِ، ثُمَّ إِنَّهَا نَخِرَتْ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ فَبَنَاهَا بِجُذُوعِ النَّخْلِ وَبِجَرِيدِ النَّخْلِ، ثُمَّ إِنَّهَا نَخِرَتْ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ فَبَنَاهَا بِالْآجُرِّ، فَلَمْ تَزَلْ ثَابِتَةً حَتَّى الْآنَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد نبوی کے ستون کھجور کی لکڑی کے تھے، اس کے اوپر کھجور کی شاخوں سے سایہ کر دیا گیا تھا، پھر وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں بوسیدہ ہو گئی تو انہوں نے اس کو کھجور کے تنوں اور اس کی ٹہنیوں سے بنوایا، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں وہ بھی بوسیدہ ہو گئی تو انہوں نے اسے پکی اینٹوں سے بنوا دیا، جو اب تک باقی ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 452]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ عطية العوفي: ضعيف مدلس: انظر طبقات المدلسين (122/ 4) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 29
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7335) (ضعیف) (اس کے ایک راوی ”عطیہ عوفی“ ضعیف ہیں)