سنن أبي داود حدیث نمبر: 449
Sunan Abi Dawud 449
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
12: باب فِي بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ
باب: مساجد کی تعمیر کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، وَقَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک کہ لوگ مسجدوں پر فخر و مباہات نہ کرنے لگیں“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 449]
💡 وضاحت:
۱؎: ”مساجد میں فخر“ یعنی مساجد کے بارے میں لوگ ایک دوسرے پر فخریہ باتیں کریں گے مثلاً ہماری مسجد بڑی ہے، اونچی ہے، خوبصورت ہے وغیرہ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ مساجد میں بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرنے کی بجائے فخریہ قسم کی باتیں کیا کریں گے، مسجد کی اصل زینت اور آرائش یہ ہے کہ وہاں پنچ وقتہ اذان و اقامت اور سنت کے مطابق نماز اپنے وقت پر ہو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (719)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/المساجد 2 (690)، سنن ابن ماجہ/المساجد 2 (739)، (تحفة الأشراف: 951)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/134، 175، 230) (صحیح)