سنن أبي داود حدیث نمبر: 4465
Sunan Abi Dawud 4465
کتاب #40: کتاب: حدود اور تعزیرات کا بیان
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، أَنَّ شَرِيكًا، وَأَبَا الْأَحْوَصِ، وَأَبَا بَكْرِ بْنَ عَيَّاشٍ، حَدَّثُوهُمْ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" لَيْسَ عَلَى الَّذِي يَأْتِي الْبَهِيمَةَ حَدٌّ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَا قَالَ عَطَاءٌ، وقَالَ الْحَكَمُ: أَرَى أَنْ يُجْلَدَ وَلَا يُبْلَغَ بِهِ الْحَدَّ، وقَالَ الْحَسَنُ: هُوَ بِمَنْزِلَةِ الزَّانِي، قَالَ أَبُو دَاوُد: حَدِيثُ عَاصِمٍ يُضَعِّفُ حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جو چوپائے سے جماع کرے اس پر حد نہیں ہے، ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح عطاء نے کہا ہے۔ اور حکم کہتے ہیں: میری رائے یہ ہے کہ اسے کوڑے مارے جائیں، لیکن اتنے کوڑے جو حد سے کم ہوں۔ اور حسن کہتے ہیں: وہ زانی ہی کے درجہ میں ہے یعنی اس کی وہی سزا ہو گی جو زانی کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عاصم کی حدیث عمرو بن ابی عمرو کی حدیث کی تضعیف کر رہی ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4465]
💡 وضاحت:
۱؎: ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۴۴۶۲)
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (3586)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الحدود 23 (1455)، انظر حدیث رقم (4462)، (تحفة الأشراف: 6176) (حسن)