سنن أبي داود حدیث نمبر: 4464
Sunan Abi Dawud 4464
کتاب #40: کتاب: حدود اور تعزیرات کا بیان
30: باب فِيمَنْ أَتَى بَهِيمَةً
باب: جانور سے جماع کرنے والے کی سزا کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَتَى بَهِيمَةً فَاقْتُلُوهُ وَاقْتُلُوهَا مَعَهُ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: مَا شَأْنُ الْبَهِيمَةِ؟ قَالَ: مَا أُرَاهُ قَالَ ذَلِكَ، إِلَّا أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يُؤْكَلَ لَحْمُهَا وَقَدْ عُمِلَ بِهَا ذَلِكَ الْعَمَلُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: لَيْسَ هَذَا بِالْقَوِيِّ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی جانور سے جماع کرے اسے قتل کر دو، اور اس کے ساتھ اس جانور کو بھی قتل کر دو“۔ عکرمہ کہتے ہیں: میں نے ابن عباس سے پوچھا: اس چوپایہ کا کیا جرم ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ نے یہ صرف اس وجہ سے فرمایا کہ ایسے جانور کے گوشت کھانے کو آپ نے برا جانا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4464]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (3576) ¤ أخرجه الترمذي (1455 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم (4462)، (تحفة الأشراف: 6176) (حسن صحیح)