سنن أبي داود حدیث نمبر: 4444
Sunan Abi Dawud 4444
کتاب #40: کتاب: حدود اور تعزیرات کا بیان
25: باب الْمَرْأَةِ الَّتِي أَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِرَجْمِهَا مِنْ جُهَيْنَةَ
باب: قبیلہ جہینہ کی ایک عورت کا ذکر جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کرنے کا حکم دیا۔
قَالَ أَبُو دَاوُد: حُدِّثْتُ عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ سُلَيْمٍ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، زَادَ ثُمَّ رَمَاهَا بِحَصَاةٍ مِثْلَ الْحِمِّصَةِ، ثُمَّ قَالَ: ارْمُوا وَاتَّقُوا الْوَجْهَ، فَلَمَّا طَفِئَتْ أَخْرَجَهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا، وَقَالَ فِي التَّوْبَةِ نَحْوَ حَدِيثِ بُرَيْدَةَ.
ابوداؤد کہتے ہیں مجھ سے یہ حدیث عبدالصمد بن عبدالوارث کے واسطہ سے بیان کی گئی ہے، زکریا بن سلیم نے اسی سند سے اسی جیسی حدیث بیان کی ہے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چنے کے برابر ایک کنکری سے مارا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مارو لیکن چہرے کو بچا کر مارنا“ پھر جب وہ مر گئی تو آپ نے اسے نکالا، پھر اس پر نماز پڑھی، اور توبہ کے سلسلہ میں ویسے ہی فرمایا جیسے بریدہ کی روایت میں ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4444]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ شيخ أبي داود مجھول ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 157
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11684) (ضعیف)