سنن أبي داود حدیث نمبر: 4289
Sunan Abi Dawud 4289
کتاب #38: کتاب: مہدی کا بیان
1: باب
باب:۔۔۔۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِصَّةِ جَيْشِ الْخَسْفِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَيْفَ بِمَنْ كَانَ كَارِهًا؟ قَالَ: " يُخْسَفُ بِهِمْ وَلَكِنْ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى نِيَّتِهِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دھنسائے جانے والے لشکر کا واقعہ روایت کرتی ہیں اس میں ہے: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص کا کیا حال ہو گا جو نہ چاہتے ہوئے زبردستی لایا گیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا البتہ قیامت کے دن وہ اپنی نیت پر اٹھایا جائے گا“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4289]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (2882)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/ الفتن 2 (2882)،(تحفة الأشراف: 18194)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/290) (صحیح)