سنن أبي داود حدیث نمبر: 4279
Sunan Abi Dawud 4279
کتاب #38: کتاب: مہدی کا بیان
1: باب
باب:۔۔۔۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ قَائِمًا حَتَّى يَكُونَ عَلَيْكُمُ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ تَجْتَمِعُ عَلَيْهِ الْأُمَّةُ، فَسَمِعْتُ كَلَامًا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أَفْهَمْهُ، قُلْتُ لِأَبِي مَا يَقُولُ؟ قَالَ: كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”یہ دین برابر قائم رہے گا یہاں تک کہ تم پر بارہ خلیفہ ہوں گے، ان میں سے ہر ایک پر امت اتفاق کرے گی“ پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسی بات سنی جسے میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا: آپ نے کیا فرمایا؟ تو انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”یہ سارے خلفاء قریش میں سے ہوں گے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4279]
قال الشيخ الألباني:
صحيح ق دون قوله تجتمع عليه الأمة
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ إسماعيل بن أبي خالد مدلس ومروان بن معاوية الفزاري مدلس (طبقات المدلسين: 3/105) و عنعنا ¤ والحديث الآتي(الأصل: 4280) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 152
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2134)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأحکام 51 (7222)، صحیح مسلم/الإمارة 1 (1821)، سنن الترمذی/الفتن 46 (2224)، مسند احمد (5/86، 88، 96، 105) (صحیح) (اس میں: تجتمع علیہ الأمة کا ٹکڑا منکر ہے، صحیح نہیں ہے)، (ابو خالد الاحمسی لین الحدیث ہیں، اور اس کی روایت میں متفرد ہیں، ملاحظہ ہو: الصحیحة: 376، وتراجع الألباني: 208)