سنن أبي داود حدیث نمبر: 3887
Sunan Abi Dawud 3887
کتاب #29: کتاب: علاج کے احکام و مسائل
18: باب مَا جَاءَ فِي الرُّقَى
باب: جھاڑ پھونک کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عَنِ الشِّفَاءِ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَتْ: " دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عِنْدَ حَفْصَةَ، فَقَالَ لِي: " أَلَا تُعَلِّمِينَ هَذِهِ رُقْيَةَ النَّمْلَةِ كَمَا عَلَّمْتِيهَا الْكِتَابَةَ".
شفاء بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ” «نملہ» ۱؎ کا منتر اس کو کیوں نہیں سکھا دیتی جیسے تم نے اس کو لکھنا سکھایا ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3887]
💡 وضاحت:
۱؎: «نملہ» ایک بیماری ہے جس میں جسم کے دونوں پہلؤوں میں پھنسیوں کے مانند دانے نکلتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ مشكوة المصابيح (4561) ¤ أخرجه أحمد (6/372) والنسائي في الكبريٰ (7543) وللحديث طرق عند النسائي في الكبريٰ (7542) والحاكم (4/414)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15900)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/372) (صحیح)