سنن أبي داود حدیث نمبر: 3885
Sunan Abi Dawud 3885
کتاب #29: کتاب: علاج کے احکام و مسائل
18: باب مَا جَاءَ فِي الرُّقَى
باب: جھاڑ پھونک کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وابْنُ السَّرْحِ، قَالَ أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، وقَالَ ابْنُ السَّرْحِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْروِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَقَالَ ابْنُ صَالِحٍ، مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ أَحْمَدُ: وَهُوَ مَرِيضٌ، فَقَالَ: اكْشِفِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ ثُمَّ أَخَذَ تُرَابًا مِنْ بَطْحَانَ فَجَعَلَهُ فِي قَدَحٍ، ثُمَّ نَفَثَ عَلَيْهِ بِمَاءٍ وَصَبَّهُ عَلَيْهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ ابْنُ السَّرْحِ يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدٍ: وَهُوَ الصَّوَابُ.
ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، وہ بیمار تھے تو آپ نے فرمایا: «اكشف الباس رب الناس " . عن ثابت بن قيس» ”لوگوں کے رب! اس بیماری کو ثابت بن قیس سے دور فرما دے“ پھر آپ نے وادی بطحان کی تھوڑی سی مٹی لی اور اسے ایک پیالہ میں رکھا پھر اس میں تھوڑا سا پانی ڈال کر اس پر دم کیا اور اسے ان پر ڈال دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن سرح کی روایت میں یوسف بن محمد ہے اور یہی صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3885]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ يوسف بن محمد لم يوثقه غير ابن حبان فھو مجهول كما في التحرير (7879) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 139
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/ الیوم واللیلة، (1017، 1040) (تحفة الأشراف: 2066) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی محمد بن یوسف لین الحدیث ہیں)