📖 سنن أبي داود • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن أبي داود

Sunan Abi Dawud (سُنَنُ أَبِي دَاوُدَ)
📁 کتاب: طہارت کے مسائل (كِتَاب الطَّهَارَةِ) 🏷️ باب: باب: نجس کپڑے میں ادا کی جانے والی نماز کے دہرانے کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن أبي داود حدیث نمبر: 388 Sunan Abi Dawud 388
کتاب #1: کتاب: طہارت کے مسائل
143: باب الإِعَادَةِ مِنَ النَّجَاسَةِ تَكُونُ فِي الثَّوْبِ
باب: نجس کپڑے میں ادا کی جانے والی نماز کے دہرانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَتْنَا أُمُّ يُونُسَ بِنْتُ شَدَّادٍ، قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي حَمَاتِي أُمُّ جَحْدَرٍ الْعَامِرِيَّةُ، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ، فَقَالَتْ: " كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْنَا شِعَارُنَا وَقَدْ أَلْقَيْنَا فَوْقَهُ كِسَاءً، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ الْكِسَاءَ فَلَبِسَهُ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الْغَدَاةَ ثُمَّ جَلَسَ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ لُمْعَةٌ مِنْ دَمٍ، فَقَبَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَا يَلِيهَا فَبَعَثَ بِهَا إِلَيَّ مَصْرُورَةً فِي يَدِ الْغُلَامِ، فَقَالَ: اغْسِلِي هَذِهِ وَأَجِفِّيهَا ثُمَّ أَرْسِلِي بِهَا إِلَيَّ، فَدَعَوْتُ بِقَصْعَتِي فَغَسَلْتُهَا ثُمَّ أَجْفَفْتُهَا فَأَحَرْتُهَا إِلَيْهِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنِصْفِ النَّهَارِ وَهِيَ عَلَيْهِ".
ام یونس بنت شداد کہتی ہیں کہ میری ساس ام جحدر عامریہ نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کپڑے میں لگ جانے والے حیض کے خون کے بارے میں پوچھا تو آپ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی اور ہم اپنا شعار (اندر کا کپڑا) پہنے ہوئے تھے، اس کے اوپر سے ہم نے ایک کمبل ڈال لیا تھا، جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کمبل کو اوڑھ کر (نماز کے لیے) چلے گئے اور صبح کی نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تو ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! یہ خون کا نشان ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے آس پاس کے حصہ کو مٹھی سے پکڑ کر غلام کے ہاتھ میں دے کر اسی طرح میرے پاس بھیجا اور فرمایا: اسے دھو کر اور سکھا کر میرے پاس بھیج دو، چنانچہ میں نے پانی کا اپنا پیالہ منگا کر اس کو دھویا پھر سکھایا، اس کے بعد آپ کے پاس واپس بھجوا دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت وہی کمبل اوڑھے تشریف لائے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 388]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف ¤ أم يونس وأم جحدر: لا يعرف حالھما (تقريب: 8782،8709) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 28
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17977)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/250) (ضعیف) (اس کی دو راویہ ام جحدر اور ام یونس مجہول ہیں)
سنن أبي داود • حدیث #388
386 387 388 389 390
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ