سنن أبي داود حدیث نمبر: 3586
Sunan Abi Dawud 3586
کتاب #25: کتاب: قضاء کے متعلق احکام و مسائل
7: باب فِي قَضَاءِ الْقَاضِي إِذَا أَخْطَأَ
باب: اگر قاضی غلط فیصلہ کر دے تو جس کا اس میں فائدہ ہے اس کے لیے اس سے فائدہ اٹھانا ناجائز ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَوَ هُوَ عَلَى الْمِنْبَر: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ الرَّأْيَ إِنَّمَا كَانَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصِيبًا لِأَنَّ اللَّهَ كَانَ يُرِيهِ وَإِنَّمَا هُوَ مِنَّا الظَّنُّ وَالتَّكَلُّفُ".
ابن شہاب کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منبر پر فرمایا: ”لوگو! رائے تو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی درست تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کو سجھاتا تھا، اور ہماری رائے محض ایک گمان اور تکلف ہے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3586]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ہم معاملہ کو سمجھ کر اور غور و فکر کرکے کوئی رائے قائم کرتے ہیں پھر اس پر بھی اطمینان نہیں کہ وہ درست ہو۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف مقطوع
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ قال المنذري: ”ھذا منقطع،الزهري لم يدرك عمر رضي اللّٰه عنه“ (عون المعبود 329/3) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 127
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19406) (ضعیف) (زہری کی عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں ہے)