سنن أبي داود حدیث نمبر: 3585
Sunan Abi Dawud 3585
کتاب #25: کتاب: قضاء کے متعلق احکام و مسائل
7: باب فِي قَضَاءِ الْقَاضِي إِذَا أَخْطَأَ
باب: اگر قاضی غلط فیصلہ کر دے تو جس کا اس میں فائدہ ہے اس کے لیے اس سے فائدہ اٹھانا ناجائز ہے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيث، قَالَ: يَخْتَصِمَانِ فِي مَوَارِيثَ وَأَشْيَاءَ قَدْ دَرَسَتْ، فَقَالَ: إِنِّي إِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ بِرَأْيِي فِيمَا لَمْ يُنْزَلْ عَلَيَّ فِيهِ.
اس سند سے بھی ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ وہ دونوں ترکہ اور کچھ چیزوں کے متعلق جھگڑ رہے تھے جو پرانی ہو چکی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے درمیان اپنی رائے سے فیصلہ کرتا ہوں جس میں مجھ پر کوئی حکم نہیں نازل کیا گیا ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3585]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ مشكوة المصابيح (3770) ¤ انظر الحديث السابق (3584)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 18174) (صحیح) (سابقہ حدیث کا نوٹ ملاحظہ ہو)