سنن أبي داود حدیث نمبر: 3561
Sunan Abi Dawud 3561
کتاب #24: کتاب: اجارے کے احکام و مسائل
54: باب فِي تَضْمِينِ الْعَارِيَةِ
باب: مانگی ہوئی چیز ضائع اور برباد ہو جائے تو ضامن کون ہو گا؟
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَ، ثُمَّ إِنَّ الْحَسَنَ نَسِيَ، فَقَالَ هُوَ: أَمِينُكَ لَا ضَمَانَ عَلَيْهِ".
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لینے والے ہاتھ کی ذمہ داری ہے کہ جو لیا ہے اسے واپس کرے“ پھر حسن بھول گئے اور یہ کہنے لگے کہ جس کو تو مانگنے پر چیز دے تو وہ تمہاری طرف سے اس چیز کا امین ہے (اگر وہ چیز خود سے ضائع ہو جائے تو اس پر کوئی تاوان (معاوضہ و بدلہ) نہ ہو گا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3561]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1266) ابن ماجه (2400) ¤ قتادة عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 126
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/البیوع 39 (1266)، سنن ابن ماجہ/الصدقات 5 (2400)، (تحفة الأشراف: 4584)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/12، 13)، سنن الدارمی/البیوع 56 (2638) (ضعیف) (قتادہ اور حسن بصری دونوں مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں)