سنن أبي داود حدیث نمبر: 3559
Sunan Abi Dawud 3559
کتاب #24: کتاب: اجارے کے احکام و مسائل
53: باب فِي الرُّقْبَى
باب: رقبی کا (تفصیلی) بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَعْقِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ حُجْرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَعْمَرَ شَيْئًا فَهُوَ لِمُعْمَرِهِ مَحْيَاهُ، وَمَمَاتَهُ وَلَا تُرْقِبُوا، فَمَنْ أَرْقَبَ شَيْئًا فَهُوَ سَبِيلُهُ".
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی چیز کسی کو عمر بھر کے لیے دی تو وہ چیز اسی کی ہو گئی جسے دی گئی اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد بھی“۔ اور فرمایا: ”رقبی نہ کرو جس نے رقبیٰ کیا تو وہ میراث کے طریق پر جاری ہو گی“ (یعنی اس کے ورثاء کی مانی جائے گی دینے والے کو واپس نہ ملے گی)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3559]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ أخرجه ابن ماجه (2381 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الرقبی 1 (3746)، سنن ابن ماجہ/الہبات 3 (2381)، (تحفة الأشراف: 3700)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/250) (حسن صحیح الإسناد)