📖 سنن أبي داود • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن أبي داود

Sunan Abi Dawud (سُنَنُ أَبِي دَاوُدَ)
📁 کتاب: اجارے کے احکام و مسائل (كِتَابُ الْإِجَارَةِ) 🏷️ باب: باب: جو شخص اپنا مال کسی اور کے پاس پائے تو کیا کرے؟
عربی:
اردو:
سنن أبي داود حدیث نمبر: 3531 Sunan Abi Dawud 3531
کتاب #24: کتاب: اجارے کے احکام و مسائل
44: باب فِي الرَّجُلِ يَجِدُ عَيْنَ مَالِهِ عِنْدَ رَجُلٍ
باب: جو شخص اپنا مال کسی اور کے پاس پائے تو کیا کرے؟
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ السَّائِبِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ وَجَدَ عَيْنَ مَالِهِ عِنْدَ رَجُلٍ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ، وَيَتَّبِعُ الْبَيِّعُ مَنْ بَاعَهُ".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنا مال کسی اور کے پاس ہو بہو پائے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے اور خریدار اس شخص کا پیچھا کرے جس نے اس کے ہاتھ بیچا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3531]
💡 وضاحت:
۱؎: مثلا کسی نے غصب کیا ہو یا چوری کا مال خرید لیا ہو اور مال والا اپنا مال ہوبہو پائے تو وہی اس مال کا حقدار ہوگا اور خریدار بیچنے والے سے اپنی قیمت کا مطالبہ کرے گا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف ¤ نسائي (4685) ¤ قتادة عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 125
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/البیوع 94 (4685)، (تحفة الأشراف: 4595)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/13، 18) (ضعیف) (اس کے راوة قتادہ اور حسن بصری دونوں مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں)
سنن أبي داود • حدیث #3531
3529 3530 3531 3532 3533
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ