سنن أبي داود حدیث نمبر: 3530
Sunan Abi Dawud 3530
کتاب #24: کتاب: اجارے کے احکام و مسائل
43: باب فِي الرَّجُلِ يَأْكُلُ مِنْ مَالِ وَلَدِهِ
باب: آدمی کا اپنی اولاد کے مال میں سے کھانا درست ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي مَالًا وَوَلَدًا وَإِنَّ وَالِدِي يَحْتَاجُ مَالِي، قَالَ: أَنْتَ وَمَالُكَ لِوَالِدِكَ، إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ، فَكُلُوا مِنْ كَسْبِ أَوْلَادِكُمْ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس مال ہے اور والد بھی ہیں اور میرے والد کو میرے مال کی ضرورت ہے ۱؎ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اور تمہارا مال تمہارے والد ہی کا ہے (یعنی ان کی خبرگیری تجھ پر لازم ہے) تمہاری اولاد تمہاری پاکیزہ کمائی ہے تو تم اپنی اولاد کی کمائی میں سے کھاؤ“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3530]
💡 وضاحت:
۱؎: بعض نسخوں میں «يحتاج» ہے، یعنی: ان کے اخراجات میرے مال کو ختم کر دیں گے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (3354)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8670، 8675)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/التجارات64 (2292)، مسند احمد (2/179) (حسن صحیح)