سنن أبي داود حدیث نمبر: 3393
Sunan Abi Dawud 3393
کتاب #23: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
31: باب فِي الْمُزَارَعَةِ
باب: مزارعت یعنی بٹائی پر زمین دینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَقَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَقَالَ: أَبِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، فَقُلْتُ: أَمَّا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَلَا بَأْسَ بِهِ".
حنظلہ بن قیس کہتے ہیں کہ انہوں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کو کرایہ پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرایہ پر (کھیتی کے لیے) دینے سے منع فرمایا ہے، تو میں نے پوچھا: سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ کی بات ہو تو؟ تو انہوں نے کہا: رہی بات سونے اور چاندی سے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3393]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (1547)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 3553) (صحیح)