سنن أبي داود حدیث نمبر: 3390
Sunan Abi Dawud 3390
کتاب #23: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
31: باب فِي الْمُزَارَعَةِ
باب: مزارعت یعنی بٹائی پر زمین دینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ الْمَعْنَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَا وَاللَّهِ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ مِنْهُ، إِنَّمَا أَتَاهُ رَجُلَانِ، قَالَ مُسَدَّدٌ: مِنِ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ اتَّفَقَنا، قَدِ اقْتَتَلَا، ثُمَّ اتَّفَقَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ كَانَ هَذَا شَأْنَكُمْ، فَلَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ". زَادَ مُسَدَّدٌ، فَسَمِعَ قَوْلَهُ: " لَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ".
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو معاف فرمائے قسم اللہ کی میں اس حدیث کو ان سے زیادہ جانتا ہوں (واقعہ یہ ہے کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انصار کے دو آدمی آئے، پھر وہ دونوں جھگڑ بیٹھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہیں ایسے ہی (یعنی لڑتے جھگڑتے) رہنا ہے تو کھیتوں کو بٹائی پر نہ دیا کرو“۔ مسدد کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے آپ کی اتنی ہی بات سنی کہ زمین بٹائی پر نہ دیا کرو (موقع و محل اور انداز گفتگو پر دھیان نہیں دیا)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3390]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ أخرجه النسائي (3959 وسنده حسن) وابن ماجه (2461 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/ المزارعة 3 (3959)، سنن ابن ماجہ/الرھون 10 (2461)، (تحفة الأشراف: 3730)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/182، 187) (ضعیف) (اس کے راوی ابوعبیدہ اور ولید بن ابی الولید لین الحدیث ہیں) وضاحت: ابن ماجہ کی حدیث پر صحیح کا حکم ہے تفصیل مذکورہ حدیث نمبر پر ملاحظہ فرمائیں