سنن أبي داود حدیث نمبر: 3284
Sunan Abi Dawud 3284
کتاب #22: کتاب: قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل
19: باب فِي الرَّقَبَةِ الْمُؤْمِنَةِ
باب: مسلمان لونڈی کو (کفارہ میں) آزاد کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَوْزَجَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: " أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً، فَقَالَ لَهَا: أَيْنَ اللَّهُ؟، فَأَشَارَتْ إِلَى السَّمَاءِ بِأُصْبُعِهَا، فَقَالَ لَهَا: فَمَنْ أَنَا؟، فَأَشَارَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلَى السَّمَاءِ، يَعْنِي أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ: أَعْتِقْهَا، فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص ایک کالی لونڈی لے کر آیا، اور اس نے عرض کیا: اﷲ کے رسول! میرے ذمہ ایک مومنہ لونڈی آزاد کرنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (لونڈی) سے پوچھا: ”اﷲ کہاں ہے؟“ تو اس نے اپنی انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کیا (یعنی آسمان کے اوپر ہے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”میں کون ہوں؟“ تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آسمان کی طرف اشارہ کیا یعنی (یہ کہا) آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (لونڈی لے کر آنے والے شخص سے) کہا: ”اسے آزاد کر دو یہ مومنہ ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3284]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ المسعودي اختلط قبل موته (تق: 3919) وسماع يزيد بن ھارون منه بعد اختلاطه (الكواكب النيرات ص55 ت 35) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 119
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 13581)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/291) (حسن لغیرہ) (اس کے راوی مسعود ی اخیر عمر میں مختلط ہو گئے تھے، اور یزید بن ہارون نے ان سے اختلاط کے بعد ہی روایت لی ہے لیکن معاویہ سلمی کی روایت سے یہ حدیث صحیح ہے) (الصحیحة: 3161، تراجع الألباني: 107)